نعمت خانہ – تئیسویں قسط
خالد جاوید: میں ہوش سا کھونے لگا۔ مجھے لگا کہ میں باہر سڑک پر پڑا ہوا ہوں۔ اور میرے اوپر…
خالد جاوید: میں ہوش سا کھونے لگا۔ مجھے لگا کہ میں باہر سڑک پر پڑا ہوا ہوں۔ اور میرے اوپر…
خالد جاوید: وہ پاگل اور مخبوط الحواس چوہا اُسے دیکھ کر مایوس، واپس آٹے کے کنستر کے پیچھے چھپ گیا۔…
خالد جاوید: غصّے کا وہ تاریک سایہ، وہ میرا ساتھی، اچانک طویل القامت ہوگیا۔ وہ میرے قد سے بہت اونچا…
خالد جاوید: مجھے اُس وقت یہ علم نہیں تھا کہ چہرے واپس آتے ہیں۔ لوگ واپس آتے ہیں، بھلے ہی…
خالد جاوید: مایّوں میں اُنہیں نمک دینا بھی بند کر دیا گیا تھا۔ وہ صرف میٹھا کھا سکتی تھیں۔ زیادہ…
خالد جاوید: مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی…
خالد جاوید: میں نے تو انسانوں کو اپنی اپنی آنتوں میں پتھّر باندھ کر ایک دوسرے کی طرف پھانسی کے…
خالد جاوید: کیا کسی نے بھی اس پر غور کیا کہ محض روح کی پاکیزگی کے ڈنکے پیٹتے رہنے سے…
خالد جاوید: میں ابھی بس اُن قبروں تک ہی پہنچا ہوں گا کہ میں نے اپنے پیچھے ایک زور کی…