ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ
زاہد امروز: ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻢ ﺳﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﮨﻮ
زاہد امروز: ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻢ ﺳﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﮨﻮ
زاہد امروز: ڈرے ہوئے آدمی ڈرے ہوئے آدمی سے ڈر جاتے ہیں مرے ہوئے آدمی مرے ہوئے آدمی کو مار…
یاہودا امیخائی: میرا دُکھ میرا جدِ امجد ہے اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا جو اُس…
ہانس بورلی: تنہا پرندے سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں
چاروں جانب اُمڈی تاریکی میں ہم کتنے دن زندہ رہ سکتے ہیں؟ یہ وطن ہنسی کی گود نہیں کسی قاتل…
اگر ترے سینے کی گولائیاں گوتم کےَ سر جیسی ہوں میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں
کتنی آوازیں روزانہ تمہیں بلاتی ہیں کام میں گم دفتر کی میزوں میں دھنسے ہوئے تم ان کو سُن نہیں…
رات کے خالی برتن میں یہ کیسا شور بھرا ہے! دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں…
شاہی محلے سے لے کر افسر شاہی تک سب دلالی کا کھیل ہے اور ان کے درمیان سارا بازار پڑتا…