دنیا شاعروں کے سپرد کر دو (نظم گو: محمد رضا عبد الملکیان، ترجمہ: مدثر عباس)

اگر یہ سرگرداں مصرعے صندوق
سے باہر نہ آئے تو بوڑھے ہو جائیں گے
اور کبھی بھی پرندہ نہیں بن پائیں گے
اندھا کتا (تحریر: آر کے نارائن، ترجمہ: رومانیہ نور)

کتے نے اپنی آوارہ گردی کم کر دی تھی۔ وہ اندھے بھکاری کے قریب بیٹھا اسے صبح سے شام تک خیرات وصول کرتے ہوئے دیکھتا رہتا.
چوکیدار کی بیوی (تحریر: رخسانہ احمد، ترجمہ: رومانیہ نور)

ہیرا کو معلوم ہے کہ اس کے بچوں کو اکثر بھوکا ہی سونا پڑتا ہے چنانچہ وہ بھی پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتا۔